ہم تاریخ کو دہراتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے!

ترجمہ و تلخیص: ساحل سمیجو

ایک صدی قبل  اسپینش فلو وبا سے زندہ بچنے والے جوزا میل پینا اور  جوئے نیومن دنیا کو کورونا سے خبردار کردیا!

جوزامیل پینا 4 سال کا تھا جب 1918 میں شمالی اسپین میں اس کے چھوٹے سے شہر میں فلو ٹوٹ پڑا تھا، اس وقت چرچ میں موت کی گھنٹی بجنا معمول بن چکا تھا۔

آج ایک صدی سے زائد عرصے کے بعد اسپین میں اس وبا کے چشم دید گواھ کے طور پر زندہ بچنے والا  105 سالہ امیل دنیا کو خبردار کرتا ہے کہ انسانی تاریخ ایک مرتبہ پھر ایک مہلک وبا سے دوچار ہے۔ کرونا وائرس کے دنیا میں پھیلائو پر امیل کہتا ہے کہ،”خبردار- ھوشیار ہوجائو، میں ایک ہی چیز (وبا) دنیا میں دوبارہ ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا، جو کئی (کروڑوں) جانیں نگل گئی تھی۔”

1918 کے فلو کو "اسپینش فلو” کے طور پر جانا جاتا ہے، جس نے (اُس وقت کے) ذرائع ابلاغ کے مطابق پوری دنیا میں 50 اور 100 ملین کے درمیان انسانوں کو موت کی نیند سُلا دیا تھا۔

امیل پینا کے چھوٹے سے شہر لورکا جس کی آبادی 2000 تھی وہاں پر ایک چوتھائی یعنی 500 لوگ مر گئے تھے۔ امیل کے اس بیانئے سے مجھے وہ منظرنامہ دکھائی دے رہا ہے جو کہ گویا میں اس کے گھر کی کھڑکی سے دیکھ رہا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کو جنازوں کا ایک جلوس قبرستان کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔

1918 کی خزاں میں وہ (امیل) اپنے 7 بہن بھائیوں میں سے واحد بچہ تھا جو فلو کی مہلک وار بچ گیا تھا۔ "مجھے ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا کہ میں کیسے زندہ بچ گیا”، 105 سالی امیل اخباری نمائندوں کو بتاتے ہیں کہ، "جب میں اٹھا تو بمشکل چل پا رہا تھا۔ مجھے اپنے ہاتھوں اور گھٹنون کے بل رینگنا پڑا تھا۔” جیساکہ وہ مسلسل بخار میں مبتلا تھا، ڈاکٹر نے اسے سمندری گھاس اور یوکلپٹس کے پتوں کو اُبال کر اس کی بھاپ لینے کا مشورہ دیا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں امیل پینا کو اپنی زندگی میں ایک اور وبا کے دنیا میں میں  ابھرنے کا تجربہ ہوا ہے۔ اسپین اس وقت کورونا وائرس کے دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے، جہاں پر (آخری اطلاعات کے مطابق) 1720 انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔

"وہ بالکل جانتے ہیں کہ کورونا وائرس سے (دنیا میں) کیا ہورہا ہے۔” امیل کی بیٹی انونسیاٹا کہتی ہیں، "مجھے اپنی زندگی میں وہ اتنے پریشان کبھی نظر نہیں آئے۔ وہ ڈرے ہوئے ہیں کہ کہیں (تاریخ اپنے آپ کو دہرا تو نہیں رہی) اور وہی چیز ایک بار پھر ہونے جا رہی ہے (جو وہ ایک صدی قبل دیکھ چکے ہیں) حالانکہ اس وقت ہم ایک مختلف دور میں موجود ہیں۔ِ”

گوکہ دونوں مہلک وبائی امراض کا پھیلائو اور خوف یکساں ہیں، لیکن اس وقت سائنسی ترقی کی وجہ سے اس وائرس سے متاثرہ افراد سے الگ رہنے، وائرس کش ادویات کی جانچ اور پیچیدہ طبی علاج کی سہولیات میسر ہیں۔

بحر اوقیانوس کے پار 1918 کے فلو سے زندہ بچنے والا ایک اور شخص بھی موجود ہے۔ امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر سراسوتا میں موجود 107 سالہ جوئے نیومن اس ضمن میں اپنا نقطہ نظر پیش کرتا ہے کہ، "وہ لوگ جو کہہ رہے ہیں کہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں، سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا، میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہاں مگر کس قیمت پر؟”

نیومن لوگوں سے اپیل کرتا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کرو، وہ کہتا ہے، "ہمیں ایک دوسرے کی بیساکھی بننا ہوگا، یہ ہی حل ہے اس بحران سے نمٹنے کا جس سے آج ہم دوچار ہیں۔ اور تب ہی ہم وہ راستہ تلاش کر سکتے ہیں جو ہمیں واپس اُس موڑ پر لے جائے جو ہم چند ماہ قبل پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔”

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.