نوجوان طبقہ سوشل میڈیا کا استعمال ملکی سلامتی اور استحکام کے لیے کرے

سعید خان صافی

آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی اور جمہوری حق ہے جس ملک میں اظہار رائے کی آزادی ہوتی ہے وہ ملک بہت کم عرصے میں ترقی کے منازل طے کرتا ہے لیکن اظہار رائے کے لیے عصر حاضر میں ایک مؤثر ذریعہ میڈیا ہے جس کا سہارا لے کر کوئی فرد اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے میڈیا وہ ذریعہ ہے جس کی بنیاد پر عوام کو حقائق سے باخبر رکھا جاتا ہے .

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا میڈیا کو اس قدر آزادی حاصل ہے کہ وہ حقائق کو قوم کے سامنے لائے؟ اس کا جواب میرے خیال میں مجھ سے بہتر آپ  جانتے ہیں کہ میڈیا کو کس قدر آزادی حاصل ہے عموماً زیادہ تر سیاسی افراد میڈیا کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں.

جب ایک عام شہری ملکی حالات جاننے کے لیے میڈیا کا سہارے لیتے ہیں تو مختلف چینلز ہر سیاسی جماعت کے متعلق مختلف آراء رکھتے ہیں اس سے ایک عام شہری الجھن میں مبتلا ہوجاتا ہے اور وہ حقائق جاننے کے لیے سوشل میڈیا پر جاتا ہے جہاں زیادہ تر بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی باتوں پر اندھا دھند اعتماد کر لیتا ہے جس کی وجہ سے وہ شہری اصل حقائق سے بے خبر ہوتا ہے میڈیا وہ شعبہ ہے جس کے ذریعہ قوم کو سچ اور جھوٹ میں تمیز سکھائی جاتی ہے.

لیکن ہمارے ملک میں صورتحال قدرے مختلف ہے جہاں سوشل میڈیا پر سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنا بائیں ہاتھ کا کام ہے یہی وہ وجہ ہے جس کی بنیاد پر ایک عام شہری اپنے حق رائے دہی کا استعمال غلط طریقے سے کر جاتا ہے کیونکہ وہ فرد سوشل میڈیا پر چلنے والی بے بنیاد باتوں پر یقین کرلیتا ہے اور اسی نامناسب حق رائے دہی کےاستعمال کی وجہ سے کف افسوس ملتے ہیں میڈیا کا اصل کام قوم کے منتخب کیے ہوئے نمائندے جو پارلیمنٹ میں عوام کے لیے قانون سازی کرتے ہیں ان کے افعال و اعمال سے قوم کو باخبر رکھنا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے.

میڈیا وہ واحد شعبہ ہے جس کے ذریعے احتساب کا عمل بہترین بنایا جا سکتا ہے اگر میڈیا اپنے فرائض ایمانداری،مخلصی اور دیانتداری سے سرانجام دینگے تو ہر منتخب ممبر اپنے اعمال کے سلسلے میں جوابدہ ہوگا میڈیا سے مراد محض پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا نہیں بلکہ حقیقی مراد سوشل میڈیا ہے جو کہ عصر حاضر میں ہر دوسرا شخص اس سے منسلک ہے اور تقریبا 70فیصد اس کا استعمال نوجوان طبقہ کرتا ہے اگر سوشل میڈیا کا استعمال نفرت انگیز اور متعصبانہ مواد شئیر کرنے کے بجائے ایسے مواد شئیر کرے جو ملکی سلامتی، ملکی استحکام اور محبتوں کا ذریعہ بننے تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارے ملک کے افراد اس قدر متحد ہوجائے کہ دنیا کی کوئی طاقت ان کے بیچ دراڑ نہیں ڈال سکے گی کیونکہ نوجوان طبقے نے اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے نوجوان طبقہ ہی اس قوم کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے اللہ فرماتا ہے کہ میں کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے اب وقت آگیا ہے کہ نوجوان طبقہ اس ملک کو اس دلدل سے نکالے جو کافی عرصے سے جس دلدل میں ہے اور اپنی تمام تر توانائی اس قوم کو ترقی یافتہ بنانے میں صرف کرے.

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.