ھیپاٹائٹس کنٹرول اور ذھنی بیمار معاشرہ

شمس بوزدار

ھیپاٹائیٹس کو ہماری اپنی زبان میں دو طرح سے پکارہ جاتا ہے ۔ ایک تو سادہ اور آسان لفظوں میں کالا یرقان کہا جاتا ہے ، جو معاشرے میں رہنے والے ہر انسان کو پتہ ہے ۔مگر ایک نام وہ بھی ہے ، جو ڈاکٹر استعمال کرتے ہیں، اور وہ لوگ سمجھتے ہیں جو صحت کے بارے میں تھوڑا بہت شعور رکھتے ہیں۔ یعنی ڈاکٹری زبان میں اسے خاموش قاتل سے تشبیھ دی گئی ہے ، ایسے نام کو ہم سر عام استعمال تو نہیں کر سکتے ، مگر معاشرے کو اگاہی دینے کے لئی ھیپاٹائیٹس کو اس نام سے پکارنا کوئی غلط بات نہیں ہوگا۔ کیوں ہیپاٹائیٹس کے ابتدائی طور پر کوئی علامات نظر نہیں آتے ، مگر چند ایک مریض کو تیزابیت کی زیادتی ، معدے میں مسائل ضرور نظر آتے ہیں۔ مگر وہ مریض نہ تو اپنا با مقصد علاج کرواتا ہے اور نہ ہی بیماری کی وجوہات جاننے کے لئی آمادہ ہوتا ہے ۔ رفتہ رفتہ یہی بیماری کرونک ھیپاٹائیٹس کی شکل اختیار کرتا ہے ، جس سے مریض کا جگر سکڑنا شروع ہوتا ہے ، اور یکدم مریض کے اندر واضع اثرات نمودار ہوتے ہیں۔ مریض کا وزن کم ہونا شروع ہوتا ہے ، قبض کی شکایت ہوتی ہے ، بھوک نہ لگنا، الٹی اور قے آنا ، پیٹ میں پانی پڑ جانا ، اور خون کی الٹی کا آنا مریض کے لئی جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی کے جسم کے اندر ھیپاٹائیٹس کے جراثیم زندہ پائے جائیں تو عموما دس سے پندرنھن سال کے اندر جگر کی خلیون کو ناکارہ بنا دیتی ہے ۔ اور بعض اوقات یہی وائرس شدید حملہ آور ہوتا ہے اور قلیل مدت میں جگر کو ناکارہ بنا دیتی ہے ۔

گورنمنٹ آف پاکستان ھیپاٹائیٹس کو کنٹرول کرنے کے لئی ہر ممکن اقدامات کررہی ہے ، مریضوں کو مفت ادوایات کی فراھمی آج بھی جاری ہے ۔ ہیپاٹائیٹس بی اور سی کو کنٹرول کرنے کے لئی خطیر رقم خرچ کیا جا رہا ہے ، جس سے لوگوں کو بہت آسانی ہو رہی ہے ۔باشعور لوگ اپنا بروقت علاج کروا رہے ہیں۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگون کے اندر اتنا شعور نہیں کہ وہ اس بیماری کو سمجھ سکیں ۔ ان کی پیچیدگیوں کو سمجھ سکیں۔
حکومت وقت کے لئی سب سے بڑا چیلنج یے ہے کہ لوگوں کو شعور آگاہی دی جائے تا کہ لوگ علاج کے لئی آمادہ ہوں ۔ اپنے ٹیسٹ بروقت کروائے جائیں۔ ہیپاٹائیٹس بی سے بچنے کے لئی حفاظتی ویکسین لگوائے جائیں، اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جائیں۔ اگر کسی کو کوئی بیماری تشخیص ہو جاتی ہے تو بروقت علاج کروایا جائے ۔ تا کہ آنے والے تمام پیچدگیوں سے بچا جائے ۔
سرکاری ہسپتال میں مفت ادوایات سے آفادہ کیا جائے ۔ اپنی بیماری چھپانے کی ضرورت ہر گز نہیں۔ بروقت علاج سے ہم بھترین زندگی گذار سکتے ہیں۔
کچھ دن پہلے ایک ڈاکٹر سے بات ہو رہی تھی ، انھون نے کہا کہ پاکستان میں موذی امراض کی دوائی مریضوں کو حکومت پاکستان کی طرف سے مفت فراھم کی جا رہی ہے مگر لوگ علاج کرانے کے لئی تیار نہیں۔ متاثرہ ہونے کے باوجود بھی لوگ بیماری چھپا لیتے ہیں۔ کروڑوں روپے کی دوائی پڑے پڑے خراب ہو رہی ہے ۔ مگر لوگ علاج کے لئی آمادہ نہیں ہوتے ۔
وجہ صاف ہے کہ معاشرے میں شعور آگاہی کے لئی کوئی نظام نہیں، ہمارا تعلیمی نظام بھی صدیون پرانا ہے اور سلیبس میں ایسے مضامین ہیں، جس کا معاشرے کو قطعن کوئی ضرورت نہیں۔ ہم مسٹر چپس جیسے ناول تو سلیبس میں شامل کر لیتے ہیں۔ مگر موذی امراض کے بارے میں شعور آگاہی ، یعنی ملیریا ، ڈینگی ،ٹائیفائیڈ ، ہیپاٹائیٹس ، ذیابیطس ، کولیسٹرول کی زیادتی کو سلیبس میں شامل نہیں کر سکتے ، اسٹرلائیزیشن کی اھمیت کو اجاگر نہیں کر سکتے ۔
چین معاشی اور تعلیمی اعتبار سے ایک مضبوط ملک ہے، صحت کے شعبے میں چین کے اندر انقلابی کام ہوئے ۔ آجکل چین ایک ناگہانی آفت یعنی کرونا وائرس سے نبرد آزما ہے ۔ کافی حد تک اس پہلتے وائرس کو کنٹرول کیا گیا ،نقصانات کے باوجود بھی با شعور معاشرے نے کافی حد تک پہلنے سے بچایا ، سخت حفاظتی اقدام کئے ، آئسولیٹیڈ ھسپتال راتوں رات بنائے ۔ مگر ہم آج تک صدیون پرانے ہیپاٹائیٹس کو کنٹرول کرنے سے قاصر ہیں، ہم ڈینگی جیسے مچھر کا مقابلا نہیں کر سکتے ، ہر سال ہیپاٹائیٹس اور ڈینگی کی وجہ سے لاکھوں لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ آخر کب ہم ایک قوم بنیں گے ۔

حکومت وقت سے گذارش ہے کہ ان بیماریوں سے بچنے کے لئی تفیصلی مواد سلیبس میں شامل کرے ، لوگ ذھنی طور پر بیماریوں سے بچنے اور علاج کرانے کے لئی تیار ہو سکیں ورنہ ان بیماریوں کی روک تھام کے لئی ہم کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی مطلوبہ نتائج نہیں حاصل کر سکتے ۔ نہ ہی ہم ہیپاٹائیٹس کو شکست دے سکتے ہیں اور نہ ہی ایک چھوٹی سی ڈینگی مچھر سے مقابلا کر سکتے ہیں۔ کرونا سے اللہ تعالی اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.