انسانوں کی اس بستی میں لاشیں دینا بندکرو

شمس بوزدار

آج کوئی سوگوار نہیں اور نہ ہی کسی کے چہرے پر کوئی ندامت بھی ہے ۔ کیوں کہ مملکت خداد کو ان حکمرانوں نے ، جو حصول اقتدار کے لئی آخری حد تک جاتے ہیں، نے مقتل گاہ بنا دیا ،آئے روز دل دہلا دینے والے واقعات رو نما ہو رہے ہیں۔ یہاں کئی لوگ بے قصور مارے جاتے ہیں۔ مگر قتل کرنے والے کا کوئی سراخ تک نہیں ملتا ، جہاں پھر ولی خان بابر کا خون ہو یا پھر عزیز میمن کا۔ چاہے ماڈل ٹاون کا سانحہ ہو یا پھر سانحہ ساہیوال کے معصوم لوگوں کا قتل ۔ یا پھر نمرتا چندانی جیسی کئی نازک کلیاں یا پھر تانیا خاصخیلی جیسی ہزاروں بے گناھ دن دھاڑے قتل ہوتی ہیں۔ مگر مدینہ کی ریاست کے دعویدار ایک معصوم اور نہتی نمرتا اور تانیہ کو انصاف دلانے سے قاصر ہیں۔

اصل بات یہی ہے کہ قاتل کوئی اور نہیں، ان حکمرانوں کی صفوں میں موجود کالی بھیڑیں ہیں، جنہوں نے کرائے کے قاتل پال رکھے ہیں۔

عزیز میمن نے نام نہاد جمہوریت کا پردہ چاک کیا جہاں جمہور کی آنکھوں میں دھول جھونکا جا رہا تھا ۔ لوگوں کو صحت انصاف تعلیم اور دوسری سہولیات دینے کے بجائے ، دھاڑی پر لوگوں کو کٹھا کر کے اپنی جلسوں کو کامیاب بنانے کی ناکام کوشش کی جا رہی تھی ۔ کاکردگی کی بجائے لوگوں کی بولیاں لگانے ، ضمیر خریدنے کا کاروبار ہو رہا تھا۔

بقول حسن نثار یے لوگ ووٹ لے کر نہیں ، ووٹ چھین کر اقتدار کی ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔

عزیز میمن کو اسی دن سے دھمکیاں مل رہی تھی ، جس دن لوگوں کے ساتھ پی پی ورکر نے فراڈ کیا ، 2000 روپے دھاڑی پر لانے والے ابوجھ لوگوں کو 200 روپے دیئے جا رہے تھے تو عزیز میمن نے اسٹوری بریک کی تھی ، اور جمہوریت کا شفاف چہرہ بے نقاب کیا۔

بقول عزیز میمن ان کے لئی محراب پور کی زمین تنگ کر دی گئی ، ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق تھے ، مقامی ایس ایچ او سے لے کر اعلی پولیس افسران تک وہ تحفظ کی اپیل کرتا رہا ۔ مگر کسی نے عزیز میمن کی بات نہیں سنی ۔

سندھ پولیس سے ناامید عزیز میمن نے وفاقی حکومت سے تحفظ کی اپیل کی مگر ریاست مدینہ کے دعویدار بھی عزیز میمن کو تحفظ نہ دے سکے ۔ آج اسی اندھے قتل کا زمیندار کون ہوگا ۔

بقول وزیر اعظم عمران خان ، جس قتل کا کوئی سراغ نہ ملے تو اس کا قاتل حکومت وقت ہوگا ۔ اگر جان کی امان چاہوں تو قاتل کبھی اس ملک میں ملے ہی نہیں۔نا سانحہ ماڈل ٹاوں میں قاتل پکڑے گئے جہاں دن دھاڑے کیمروں کے سامنے لوگ لقمہ اجل بنتے رہے ۔ نہ بارنھن مئی کے اندوہناک بربریت کے قاتل ملے ۔ نہ سانحہ ساہیوال میں معصوم لوگوں کے قاتل پکڑے گئے اور نا ہی زارا منگی ، تانیا خاصخیلی اور نمرتا چندانی کے قاتل پکڑے گئے ۔ نہ ہی ولی خان بابر کے قاتل پکڑے گئے اور نہ ہی عزیز میمن کے قاتل پکڑے جائیں گے ۔ تو پھر کیوں نہ عزیز میمن کی قتل کا ایف آئی آر حکومت وقت پر کاٹی جائے ۔ تھانے کے ایس ایچ او پر کاٹی جائے ، ضلعی پولیس آفسران پر کاٹی جائے ، سندھ حکومت پر کاٹی جائے ۔ اور ساتھ وفاقی حکومت پر کاٹی جائے ۔ تاکہ عزیز میمن کے معصوم بچوں کو یے احساس ہو سکے کہ قاتلوں کا تعین ہو چکا ہے ۔بس انصاف اب باقی ہے ۔ اس کی تمام تر زمینداری اعلی عدالتوں پر ہوگی ۔

کب تک قاتلوں کی پردہ داری ہوگی ، کب تک بے پردہ لاشیں گلیوں کوچوں میں ملتی رہیں گی ۔

اب اس بات کا تعین ہونا ضروری ہے ورنہ کل کوئی اور لاش کسی چوراہے پر لٹکتا ہوا دکھائی دیگا ۔

خدارا انسانوں کی اس بستی میں، لاشیں دینا بند کرو ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.