احسان اللہ احسان سے ملا عبدالعزیز تک

قاضی آصف

عالمی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان میں احسان اللہ احسان کا حساس مقامات سے فرار ہونے والا واقعہ اصامہ بن لادن کے بعد بہت بڑا واقع ہے۔

سوال پوچھنے والے بڑا رسک لیکر سوال اٹھا رہے ہیں لیکن دوسری جانب بلا کی خاموشی ہے۔ بیانات، مذہبی اور دیگر لے پالک جماعتوں سے لیکر ٹیوٹر پرتمام مجاہد ٹرولرس بھی خاموش ہیں۔ احسان اللہ احسان نے ایک احسان نما معاہدے کے تحت خود کو پاکستان کے اداروں کے حوالے کیا تھا۔ اے پی ایس میں تقریبا 400 بچوں کی شہادت کی ذمہ دارو قبول کی تھی، ہم نے بھی ان کی کوئی کم خاطرمدارت نہیں کی۔ ان کو جیل کے بجائے ایک اچھے مقام پر رکھا، کبھی عدالت میں پیش نہیں کیا اور ساتھ ہی بڑے ٹی وی چینلز بھی ان کی خدمت میں حاضر کر دیئے تاکہ وہ اپنی "بے گناہی” ثابت کرسکے۔

معاہدے کی پاسداری ہم نے تو کی، ان سے کئے گئے وعدوں کو نبھایا لیکن معاہدے سے احسان اللہ احسان خود مکر گیا اور ہمارے پرآسائش رہائش سے فرار ہوکر استبول بھی جا نکلا۔ تو یہ ان کے ساتھ ایک اور نیا معاہدہ تھا کیا؟ کیونکہ ملک کے سیاستدانوں کو تو ہم نے جیلوں میں ٹھونسا ہوا ہے۔ ان کی ضمانتیں نہیں ہونے دے رہے۔ پاکستان کے سیاستدانوں سے تو افغان احسان اللہ احسان زیادہ بااثر اور طاقتور نکلا۔ جہاں کوئی چڑیا پر نہیں مار سکتی وہاں سے وہ نکل لیا۔ ان کی آڈیو ٹیپ جاری ہونے سے کتنے سوال جنم لے رہے ہیں؟ کوئی اندازہ ہے؟ لیکن وہ سوال پوچھے کون اور کس سے؟ ہمارے وزیراعظم صاحب جواب دیں گے کہ نام نہاد کرپشن بڑا مسئلہ تھا یا دہشتگردی؟؟

احسان اللہ احسان طالبان کا کتنا برجستہ ترجمان تھا اس کی ایک مثال مجھے یاد آ رہی ہے۔ چند سال قبل کراچی میں ایک ٹی وی چینل میں بیوروچیف کے فرائض انجام دے رہا تھا۔ ایک دن ہمارے پیارے دوست اور اسپورٹس شعبے کے ایڈیٹر آصف صاحب نے اپنی سیٹ سے ایک زوردار چیخ ماری اور بھاگتا ہوا ہمارے ڈیسک پر آیا اور کہا، قاضی صاحب آج سے میں ٹیوٹر سے آپ کو، ان فالو کر رہا ہوں۔ میں نے پوچھا، خیریت؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب آپ کے فالوورز کی لسٹ دیکھی، حیران رہ گیا کہ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان بھی آپ کو فالو کر رہے ہیں!!! بھئی ہم نے زندہ رہنا ہے۔

ان فالو کرنا تو آصف صاحب مذاقا کہا تھا لیکن واقعی میں بھی حیران رہ گیا تھا کہ ہم جیسے گمنام صحافیوں تک کو وہ فالو کر رہا ہے!!اندزہ لگائیں، کس، کس تک ان کی نظر تھی۔

حکومت کا دفتر خارجہ، آیف آئی اے، ڈفینس منسٹری، کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دے پا رہے۔ وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے وزیراعظم ہائوس یا بنی گالہ کے کسی کونے میں چلے گئے ہیں۔

ابھی ہم پاکستان کے بے خبر مظلوم، نادار عوام اسی پر ہی سوچ رہے تھے کہ اسلام آباد سے ایک اور خبر آگئی کہ ملا عزیز پھر سے سرگرم ہوگئے ہیں۔ مسجد میں کچھ خواتین کے ساتھ خود کو محصور کرلیا ہے۔ مطالبات وہی ہیں کہ ملک میں شرعی نظام نافذ کرو۔ ریاست باہر مجبور کھڑی ہے اور ملا عزیز اندر اطمینان سے بیٹھے ہیں۔ ان کے ترجمان فون کے ذریعے میڈیا سے رابطے میں ہے۔

احسان اللہ احسان کی فراریت اور ملا عزیز کے مسجد پر قبضے میں کیا ربط ہے؟ عمران خان کے مدینے کی ریاست میں کیا ہو رہا ہے؟ پھر سے نیا ڈرامہ وہی اسکرپٹ اور ہم سرپیٹتے عوام۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا، منصوبہ بندی کیا ہے۔ ہم کہاں جا رہے ہیں۔ اب عوام مہنگائی کو روئیں یا ان حالات کو؟؟

عمران خان حکومت احسان اللہ احسان کے فرار ہونے پر اتنا غصہ نہیں ہوگی جتنا اس حوالے سے سوال اٹھانے سے۔ ملاعزیز خود نہیں بلکہ ان کے بارے میں سوال کرنے والےقابل سزا ٹھریں گے۔

اے وطن عزیز تم سلامت رہو۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.