جب وزیراعلیٰ سندھ  نے آئی جی پولیس کو ایئرپورٹ کے گھیراوُ کا حکم دیا

قاضی آصف

حکومت سندھ اور وفاق میں پولیس کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) کی مقرری کے معاملے پررسہ کشی جاری ہے۔ اس دوران جو کچھ ہوتا رہا ہے اس نے میری توجہ پاکستان کے ابتدائی دنوں کی تاریخ کی طرف دلادی ۔ ضروری ہےآپ سے بھی شیئرکروں تاکہ اس مسئلے کو سمجھنے میں مدد ملے کہ صوبائی حکومت اور وفاق میں ہو کیا رہا ہے، یہ مسئلہ پیدا کیسے ہوا تھا۔ جو اصل میں مسئلہ ہے ہی نہیں۔

1947ء میں تقسیم کا عمل شروع ہوا تھا۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان املاک کی تقسیم کا عمل جاری تھا۔ جو دو تین سال جاری رہا۔ اس تقسیم کے تحت انڈیا نے پاکستان کو حصے میں آنے والا فوجی اسلحہ، ٹینکس اور 60 کروڑ روپے نقد دینے تھے جبکہ پاکستان کو کراچی شہر کے قریب ماڑیپور ایئرپورٹ پر کھڑے چھ جنگی جیٹ جہاز انڈیا کو دینے تھے۔

ان دنوں کے سندھ کے وزیراعظم( اس وقت تک صوبوں میں وزیراعلیٰ نہیں وزیراعظم ہوا کرتے تھے) ایوب کھڑو تھے۔ پاکستان کی مالی حالت بہت تشویش ناک تھی اورانڈیا، پاکستان کی رقم دینے کیلئے تیار نہیں تھا لیکن الٹا مسلسل مطالبہ کر رہا تھا کہ حصے میں آنے والے جہاز ان کے حوالے کیئے جائیں۔

انڈیا سے مسلمانوں کی پاکستان آمد جاری تھی۔ انڈیا نے وجود میں آنے والے نئے ملک پاکستان کو ہرحال میں ناکام کرنے کی کوششیں پہلے ہی دن سے شروع کردی تھیں۔ اس حوالے سے حالات اس نہج تک پہنچ گئے تھے کہ مہاتما گاندھی کو اپنی ہی انڈین گورنمنٹ کے رویے کے خلاف تادم مرگ بھوک ہڑتال شروع کرنی پڑی تھی اوراس دوران وہ ایک ہندو انتہا پسند ناتھو رام کی گولی کا نشانہ بن چکے تھے۔ وہ انتہا پسند جن کے ورثاء اب انڈیا پر حکمران ہیں۔

پاکستان کی سخت مالی پریشانی کی وجہ سے بار بار انڈیا کو یاد دہانی کرائی جا رہی تھی  لیکن وہ رقم دینے کیلئے تیار نہیں تھا۔ ایوب کھوڑو اپنی ڈائری کے صفحے نمبر 330 پر لکھتے ہیں کہ

"ان دنوں پاکستان ایئرفورس کے کچھ افسران نے مجھ سے رابطہ کر کے گذارش کی کہ، انڈین حکومت ابھی پاکستان کو اپنے حصے کی رقم جاری نہیں کر رہی لیکن انہیں اطلاع ملی ہے کہ وزیراعظم پاکستان یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ ماڑیپور پر کھڑے چھ جنگی جہاز انڈیا کے حوالے کردیئے جائیں۔ آپ اس سلسلے میں جو کچھ کرسکتے ہیں کریں، یہ جہاز فوری طور پر انڈین گورنمنٹ کو نہیں ملنے چاہیئیں۔ میں نے آئی جی سندھ پولیس کو حکم دیا کہ ماڑیپور ایئرپورٹ کو گھیرے میں لے لیں اور جب تک میں نہ کہوں، کسی جنگی جہاز کو اڑنے نہ دیں۔ سندھ پولیس نے ایئرپورٹ کو گھیرے میں لے کر جنگی جہازوں کو اپنے کنڑول میں لے لیا۔ یہ خبر جب وزیراعظم لیاقت علی خان کو ملی تو انہوں نے شدید غصے میں فون کیا کہ یہ آپ نے جنگی جہازوں کو کیوں روکا ہے۔ یہ میرا حکم ہے۔ میں نے گذارش کی کہ میں نے یہ قدم ملکی مفاد میں اٹھایا ہے۔ ہندوستان ہمارے حصے میں آنے والی رقم سمیت جنگی سامان دینے کو تیار نہیں۔ اس سے پہلے جہاز ان کے حوالے کردینا مناسب فیصلہ نہیں ہوگا۔ انڈیا پہلے آدھی رقم دے تو آپ تین جہاز ان کو دے دیں، مکمل ہوجائے تو باقی جہاز بھی آپ ان کو دے دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم پر فرض ہے کہ ہم پہلے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ میں نے کہا کہ سر یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ اس طرح انڈیا رقم نہیں دے گا”

اور وہ جنگی جہاز ایک مہینے تک اڑ نہیں پائے۔ آگے چل کر ایوب کھوڑو اور وزیراعظم کے درمیان اس مسئلے پر بڑے تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا۔وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات پر آپ کا اختیار نہیں۔ مجھے جو کرنا ہوگا کروں گا۔ بہرحال ایک مہینے کے بعد ایوب کھوڑو نے آئی جی سندھ پولیس کو حکم دیا کہ جھازوں کا کنٹرول چھوڑدیں، وفاقی حکومت جو فیصلہ کرنا چاہتی ہے ان کی مرضی۔

حالانکہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔ پاکستان کی جانب سے چھ جہاز انڈیا کے حوالے کئے جانے کے باوجود انڈیا نے پاکستان کو پیسے نہیں دیئے تھے۔ بڑے پاپڑ بیلنے کے بعد فقط تیس کروڑ روپے دیے، بقیہ تیس کروڑ دیے ہی نہیں۔

اسی وقت پولیس کے آئی جی مقرر کیے جانے کے حوالےسے وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ پولیس سروس پاکستان کی تشکیل کی جائے اور اب چونکہ پولیس سروس وفاق کے پاس ہے اس لیئے کسی بھی صوبے کو پولیس افسر وفاق سے لینا پڑتا ہے۔ ورنہ آئینی ماہرین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جب کسی بھی صوبائی پبلک سروس کمیشن سے امتحان پاس کرنے والا افسر آگے ترقی کرکے اس صوبے کا چیف سیکریٹری بن سکتا ہے تو اسی صوبے کے پولیس کا افسر آئی جی کیوں نہیں بن سکتا۔

اس وقت جو کسی صوبے کے وزیراعلیٰ کو جو اختیارات تھے وہ آہستہ آہستہ واپس لیئے گئے۔ اب امن و امان کی بحالی گوکہ صوبائی مسئلہ ہے لیکن کوئی آئی جی بھی ان کی مرضی سے نہیں مقرر ہو سکتا۔

یہ تصور انتہائی غلط ہے کہ صوبائی حکومت ملکی مفاد میں فیصلے نہیں کر سکتی فقط وفاق ہی ملکی مفادات کا نگہبان ہے۔ سچ یہ بھی ہے کہ وفاق کے ساتھ صوبے بھی اسی ملک کے مفادات کے رکھوالے ہیں۔

خاص طور پر صوبہ سندھ کے ساتھ یہ صورتحال آج کی نہیں، اب یہ پرانی کہانی بن گئی ہے۔ اس کی نئی قسط حکومت سندھ اور وفاق میں آئی جی کی مقرری کے حوالے سے تنازع کی شکل میں آپ کے سامنے ہے۔ وفاقی حکومت کے اس قسم کے رویے سے مرکز اور صوبوں کے درمیان تنائو بڑھنے اور بدمزگی پیدا ہونے سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ وزیراعظم سندھ میں اپنے اتحادیوں کو راضی رکھنا چاہتے ہیں تو انہیں آئینی صورتحال بھی سمجھائے۔

 

 

You might also like
1 Comment
  1. Abdul Razak khatti says

    قاضی صاحب،اچھی اور بر وقت معلومات شیئر کرنے کا شکریہ،مجھےخوشی ہے کہ عوامی آواز نے اردو کا سلسلہ شروع کیا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.