غلطی ہوگئی معاف کردیں‎

کاوش میمن

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی نے بے گناہ افراد کی جان لے لی ہے قاسم سلیمانی پر امریکا کے حملے اور ان کی ہلاکت کے بعد ایران میں شدید غم وہ غصہ پایا گیا عوام نے بہت بڑی تعداد میں قاسم سلیمانی کے جنازے میں شرکت کی اور امریکا مخالف مظاہرے کیے گئے عوام کی طرف سے ایرانی حکومت پر دبائو بھی تھا کہ وہ امریکہ کو ردعمل دیں کیونکہ قاسم سلیمانی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کے بعد بڑی شخصیت تھے

ان کی ہلاکت کے بعد ایران نے شدید ردعمل دیا اور امریکا کہ سامنے کھڑا ہوگیا ردعمل میں ایران نے عراق میں امریکی ائیر بیس کو نشانہ بنایا اور متعدد میزائل داغے گئے اور ایرانی میڈیا کے ذریعے 80 امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا  کچھ ہی دیر میں امریکی صدر ٹرمپ کا بیان آیا سب ٹھیک ہے امریکہ نے 80 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ ہی مسترد کردیا ایران کے داغے گئے میزائل یوکرین کے طیارے پر بھی لگے جس کی زد میں آکر 175 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے

مزید پڑھیں:خان صاحب کراچی پکار رہا ہے‎

پہلے تو ایران نے اپنی غلطی تسلیم کرنے سے ہی انکار کردیا لیکن پھر جب تحقیقات کے ذریعے معاملات کھلنے کے خوف سے ایک بار پھر اپنا موقف بدل کر ایران نے اپنی غلطی کو بھی تسلیم کیا معافی بھی مانگی اور تحقیقات کا اعلان بھی کیا یہ تو وہی بات ہوگئی کہ” کھایا پیا کچھ نہیں اور گلاس توڑا بارا نے کا ” اس سے پہلے ایران امریکا کے 80 فوجی مارنے کا دعویٰ کرتا رہا لیکن حقیقت یہ ہے کہ  اگر فرض کرلیں کہ ایران نے امریکا کے 80 فوجیوں کو مار دیا تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ امریکہ جو سپر پاور سے دنیا میں ہر لحاظ سے سب سے آگے ہے چاہے وہ معیشت ہو یا دفاعی سازو سامان وہ 80 فوجیوں کی ہلاکت پر خاموش رہتا اور یہ کہتا کہ سب ٹھیک ہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ایسا ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اگر امریکا کے 80 تو دور کی بات اس کے اگر 10 فوجی بھی مارے جاتے تو امریکہ کا شدید ردعمل آنا تھا امریکہ کو کسی سے خطرہ نہیں ہے .

مزید پڑھیں:جب نواز شریف اداکار رنگیلہ کے شاگرد بنے

بہرہ حال جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ جنگ ایک خود بہت بڑا مسئلہ ہے تاریخ اٹھا کہ دیکھ لیں دنیا میں جتنی جنگیں لڑی گئی صرف تباہی اور بربادی کے سواء کچھ ہاتھ نہیں لگا جنگ کے بعد  کسی بھی ملک کو دوبارہ اپنے پیرو پر کھڑا ہونے میں وقت لگتا ہے چاہے وہ کتنا ہی بڑا سپر پاور یا معیشت وغیرہ کہ لحظ سے  مستحکم ہو جنگ سے صرف نقصان ہی ہوتا ہے اور تباہی کی سوا کچھ نہیں ملتا کئی دہائیوں کے بعد بھی اس کے اثرات باقی رہتے ہیں ایران اور امریکا کو افہام و تفہیم سے معمالات کو حل کرنا چاہیے تاکہ خطے میں کشیدگی کی فضا کو کم کیا جاسکے اور ایک بہتر ماحول میں ممالک آپس میں تجارت کریں اور باہمی رابطوں کو فروغ دیں مختصر یہ کہ ایران اب اپنی ناکامی کا ملبہ امریکا پر ڈال رہا اور اور یہی کہ رہا ہے غلطی ہوگئی معاف کردیں

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.