جب نواز شریف اداکار رنگیلہ کے شاگرد بنے

پارلیامینٹ میں ترمیم کا معاملہ

تحریر: قاضی آصف

 میاں محمد شریف اپنے بیٹے نوازشریف کے بارے میں بہت فکرمند تھے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کے حوالے سے ان کی کارکردگی کوئی اچھی نہیں تھی۔ میاں شریف نے ایک کوچ کی خدمات حاصل کیں۔

 عثمان ڈار لکھتے ہیں کہ نوازشریف کرکٹ سیکھنے کیلئے اسٹیڈیم پہنچے۔ پہلے ہی دن، کچھ گھنٹوں کی پریکٹس کے بعد انہوں نے بیٹ پھینک دی اور کہا کہ یہ میرے لیئے بہت مشکل ہے، اور اسٹیڈیم سے باہر چلے گئے۔

 کہا جاتا ہے کہ مشکل کام مکمل کئے بغیر آدھے میں چھوڑ کر چلے جانے کی ان کی عادت سیاست میں بھی جاری رہی۔ جیل، تکلیف برداشت کرنے کے بعد ان کی قوت برداشت شاید جواب دے جاتی ہے اور آدھے میں سب کچھ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ بلکل ایسے ہی جیسے جوانی میں بیٹ اسٹیڈیم میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس کے بعد وہ کرکٹ کی طرف تو نہیں آئے لیکن، سیاست میں بنا بنایا امیج اور ماحول تباھ کر کے چلے جاتے ہیں کچھ عرصے کے بعد پھر واپس آ جا تے ہیں۔

مشرف کے دور میں جیل کاٹی، پھر معاہدہ کر کے باہر چلے گئے۔ پھر وزیراعظم بنے پھر حکومت گئی، پھربھائی، بیٹی، بھتیجے سمیت جیل گئے، پھر باہر چلے گئے اور اب آرمی ایکٹ میں ترمیم کے حوالے سے ان کی پارٹی غیرمشروط حمایت پر آ گئی۔ جس نے ان کی پارٹی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

میاں محمد شریف کیلئے مسئلہ تو تب بھی ہوا تھا جب انہوں نے اداکار رنگیلہ سے کہا تھا کہ نوازشریف کی تربیت کر کے فلموں میں لائیں اور اداکار بنائیں، جس میں ان کی دلچسپی زیادھ ہے۔

 چند دنوں میں ہی رنگیلہ نے نواز شریف کو اپنے والد کے پاس اس معزرت کے ساتھ واپس بھیجا کہ وہ اداکاری اور فلم انڈسٹری کیلئے فٹ نہیں ہے۔ پھر والد صاحب کیا کرتا! انہوں نے نوازشریف کو اتفاق فونڈری میں پبلک رلیشننگ سنبھالنے کی ذمہ داری سونپ تھی۔

 ان دنوں نوازشریف اورشہبازشریف سیاست میں دلچسپی رکھتے تھے۔ بھٹو صاحب کے خلاف پی این اے کی تحریک کے دوران وہ اصغرخان کی تحریک استقلال میں سرگرم تھے۔

ان ہی دنوں پنجاب کے گورنرجنرل جیلانی نے اپنا ذاتی گھر بنوانا شروع کیا تھا۔ اس کیلئے گھر کے گھرد لوہے کی گرل لگانے کا ٹھیکہ میاں محمد شریف کو دیا۔ اس طرح دونوں کے رابطے بڑھ گئے۔ حسن عباس لکھتے ہیں کہ کام کے دوران گورنر جیلانی کی شہبازشریف سے اکثر ملاقات ہوتی تھی جو کام کے سلسلے میں سائٹ پراکثر موجود ہوتا تھا۔

جب جنرل ضیاء نے کابینا میں سویلین کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو میاں شریف نے جنرل جیلانی سے اپنے بیٹے کو ‘ایڈجسٹ’ کرنے کی گذارش کی۔ کچھ دنوں کے بعد جنرل جیلانی نے میاں شریف کو پیغام بھیجا کہ ان کے بیٹے شہباز شریف کو پنجاب کا وزیرخزانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ بات سن کر میاں محمد شریف فوری طور پرگورنرجنرل جیلانی کے پاس گئے ان انہیں گذارش کی کہ انہوں شہباز شریف کیلئے نہیں بلکہ نوازشریف کو ایڈجسٹ کرنے کی گذارش کی تھی۔ جس کے بعد نوازشریف کو اتفاق فونڈری کے پبلک رلیشننگ سے اٹھا کر پنجاب کا وزیرخزانہ بنایا گیا۔

شہید ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی کے بعد جنرل ضیاء الحق  پنجاب میں متبادل قیادت پیدا کرنے کی تلاش میں تھا۔ وہ اس حوالے سےعابدہ حسین کوآگے لانا چاہ رہا تھا تاکہ وہ ایک خاتون کی حیثیت سے بے نظیربھٹو کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن اس وقت ڈائریکٹر ایم آئی جنرل حمید گل نے مخالفت کی اور کہا کہ عابدہ حسین والے شیعہ ہیں، ان کو آگے بڑھانے سے سعودی عرب ناراض ہو سکتا ہے۔ جس کے بعد ضیاء الحق نے عابدہ حسین ان کے شوہر فخرامام کو آگے لانے کا منصوبہ ختم کردیا اور نوازشریف کو آگے لائے۔

یہاں مقصد نوازشریف کی زندگی کے بارے میں لکھنا نہیں تھا۔ کچھ حقائق اس لیئے بیان کئے کہ ان کی شخصیت کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ یہ حقیقت کے کہ نواز شریف سے زیادہ دلیر اور ڈٹ کر موقف رکھنے والی ان کی بیوی کلثوم نواز تھیں۔ جیسے اب ان کی بیٹی مریم نواز ہے۔

اتنی مصیتبیں جھیلنے کے بعد اب اگر گھوم پھر کر مسلم لیگ (ن) وہیں پہنچی تو ان کے کارکنان اور ملک بھر کے جمہوریت پسند عوام جنہوں نے نوازشریف سے امیدیں وابستہ کی ہوئیں تھیں، سخت مایوس ہوئے۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے آرمی ایکٹ میں ترمیم کے معاملے  پر اپنائے گئے موقف سے شدید تنقید کے نشانے پر ہیں۔ کسی نے ٹویٹر پر اچھا لکھا تھا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کو مل کر چوہدری نثار کے پاس جاکر پیش ہونا چاہیئے۔اگر ان کے کہنے پر چلتے تو حکومت جاتی نہ جیل جاتے۔

 جمہوریت کا سفر بہت کٹھن ہے، بہت سے تھک کر بیچ چوراہے پر بیٹھ جاتے ہیں۔ لیڈر تھک جاتے ہیں، کارکن چلتے رہتے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.