گلہ اپنوں سے ہیں

امجد صافی

 

آج سے دو سال پہلے کی بات ہے کہ جب میرا وہاں جانے کا ارادہ ہوا اپنے سابقہ علاقے فاٹا ضلع مہمند میں چار سال کے طویل عرصے کی بعد یہ میرا پہلا سفر تھا جس کے لیے میں بہت پرجوش تھا لیکن ایک طویل جنگ اور دھشت گردی سے متاثرہ علاقہ ہونے کی وجہ سے میرے دل میں ایک خوف بھی تھا۔

ضلع مہمند میں داخل ہوتے ہی  میری نظر وہاں کی پرانے اور خستہ حال کھنڈرات پہ  پڑی یوں محسوس ہورہا تھا جیسے ہالی ووڈ موی کا کوئی سین میری نظروں کے سامنے ہے۔

ہر طرف ایک خاموشی پھیلی ہوئی تھی جگہ جگہ پر سیکورٹی فورسز کے دستے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ ابھی بھی یہاں کے حالات صحیح نہیں ہیں لوگوں کے اندر ایک قسم کا ڈر تھا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ ٹراماٹایز ہوگئے تھے ایسا لگ رہا تھاکہ ان لوگوں کے دماغ پہ کسی نہ قبضہ کر رکھا ہے جب ہم تھوڑے سے فاصلے کہ بعد آگے گئے تو گاڑی ایک چیک پوسٹ پر رک گئی جس پر گاڑی میں بیٹھے مسافر خاصے خوف اور انزیٹئ کا شکار دکھایئ دے رہے تھے کچھ دیر سفر کے بعد گاڑی ضلع مہمند کے ایک علاقے قندہاروں میں داخل ہوگئ مجھے اب بھی یاد ہے کسی زمانے میں یہ علاقہ دہشتگردوں  کا گھڑ سمجھا جاتا تھا کیونکہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں سے ضلع مہمند کی بربادی کا آغاز ہوا۔

کچھ فاصلے کے بعد میرے سامنے ایک دل دہلا دینے والا منظر تھا میرے دماغ میں لوگوں کا ہجوم اور ان کے چہروں پر نا ختم ہونے والی مسرت الجھ رہی تھی لیکن حقیقت میں میرے آنکھوں کے سامنے مٹی کے ڈیر کے سوا کچھ نہیں تھا یہ بات ہورہی ہے اس بدقسمت بازار کی جو خاخ دکانوں کے نام سے مشہور ہیں یہ اس علاقہ کا سب سے مشہور اور معروف بازار تھا دور دور سے لوگ یہاں سے اپنی ضروریات کی چیزیں خریدتے تھے ان لوگوں کے لیے یہ بازار کسی نعمت سے کم نھیں تھا۔

لیکن دہشت گردی اور جنگ کے اس طوفان نے اسے اپنے ساتھ ملیا میٹ کردیا دور دور تک کسی کے خیال وگماں میں بھی نہیں آرہا تھا کہ یہاں کچھ سال پہلے ایک جم غفیر بازار ہوا کرتا تھا۔ تقریبا ایک میل فاصلے کے بعد میرے نظروں کے سامنے ایک مسجد اور ساتھ میں ایک سرکاری اسکول گزرا۔مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں یہ حقیقت ہے یا میری آنکھیں مجھے دھوکہ دے رہی ہے برابر میں بیٹھے مسافر نے بتایا کہ اس جنگ میں نہ ہماری عبادت گاہیں اور نہ ہی  تعلیمی درسگاہیں محفوظ رہے یہاں تک کہ  بموں سے تباہ کردیئے گئے۔

جس قوم کی شروعات اقراء سے ہوئی ہو وہ اپنے درسگاہوں کو ایسے بھیانک طریقے سے مٹی کے ڈیر میں تبدیل کرے گی؟کبھی سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔آخرکار میں گاڑی سے اترا اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ میں نے دیکھا کہ ستر سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی سابقہ فاٹا کے لوگ زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تباہ شدہ املاک، اسکول اور ہسپتال وہی مناظر پیش کرہے تھے جو عرصہ دراز سے تھے۔

یہاں کے لوگوں کو وہ سہولیات اور آزادی حاصل نہیں جو ملک کے دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کے دلوں کے اندر خوف اور ریاست سے گلہ پایا جاتا ہے اور اس گلہ اور خوف کو دور کرنے کا یہی حل ہے کہ سابقہ فاٹا کےلوگوں کو بھی باقی شہریوں کی طرح پاکستانی سمجھا جائے صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے بھی۔۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.