ڈکٹیٹر جنرل ضیا نے 35 برس پہلے طلبہ یونین پر پابندی لگائی

وامي آواز رپورٽ
ڈکٹیٹر جنرل ضیا نے 35 برس پہلے طلبہ یونین پر پابندی لگائی
وامي آواز رپورٽ ڈکٹیٹر جنرل ضیا نے 35 برس پہلے طلبہ یونین پر پابندی لگائی
آج سے ٹھیک35  برس پہلے ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق نے ملک بھر کی جامعات میں طلبہ یونین بنانے کے عمل کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے باعث طلبہ سیاست اور تعلیمی اداروں میں جمہوریت دم توڑتی گئی

یونین سازی کے زریعے طلبا کی جمہوری تربیت اور تشدد کے بجائے دلیل استعمال کرنے کی تربیت ہوتی تھی اور تعلیمی ادارے سیاسی جماعتوں کو تازہ قیادتی خون فراہم کرتے تھے۔

مگر پینتیس برس پہلے یہ نرسری بند ہو گئی ۔اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج سیاسی جماعتوں کی قیادت میں اکثریت ذہنی بانجھ لوگوں کی ہے۔ جو ڈبیٹ اور دلیل کے مینرازم سے عاری ہیں

تاریخ میں تاریک سالوں کے دوران تعلیمی نظام میں عظیم تبدیلیاں تو آئیں مگر طلبہ اپنی رائے دینے سے قاصر اور حقوق سے لاعلم رہے۔
پچھلے دنوں طلبہ رہنما عروج اورنگزیب کے نعروں کی ویڈیو کیا وائرل ہوئی کہ طلبہ کے عزم کو ایک نئی زندگی مل گئی۔
عروج اورنگزیب کی وڈیو کے بعد آج ملک بھر میں طلبہ اپنے کھوئے ہوئے حقوق واپس دلانے کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں

 

احتجاج کرنے والے طالبعلموں کا کہنا ہے کہ مدتوں سے طلبہ کو سیاست سے دور رکھنے کے لیے ریاست نے خوب سعی کی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ طلبہ سیاست میں حصہ لیں۔

ان کے مطابق طلبہ بھول ہی گئے تھے کہ ان کے حقوق دراصل ہیں کیا اور ان کو کیسے حاصل کیا جائے

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.