خلیل موریانی بھی نہیں رہے

علی عابد سومرو

میں جب بھی شکارپور جاتا  تو لکھیدر گیٹ پرموجود ادیبوں ، شاعروں اور صحافیوں کے ملنے کی جنکشن اسٹیشن۔ انڈس ہوٹل پر چکر ضرور لگاتا ، جہاں پر آدرش، سلمان سومرو، ھمیر چانڈیو اورمحترم خلیل موریانی صاحب بھی اکثر ملا کرتے تھے۔

خلیل موریاںی سے ملاقات ہوتی تو شکارپور کی تاریخ کے کسی نہ کسی پہلو پربات ضرور ہوتی۔۔کبھی وہ شکارپور کے ادب پر کبھی شکاپورکے تعلیمی اداروں پر کبھی اس شہر کی خوبصورتی اور یہاں کے لوگوں کی خوش لباسی پر بات کرتے تو کبھی شاہی باغ اور شیخ ایاز اور ان کی شاعری میں آرائیوں کے ذکر پرمفصل گفتگو کرتے۔۔۔

خلیل موریانی تقسیم ہند سے پہلے کی شکارپور اور یہاں پر ہونے والے عالمی سطح کے کاروبار اور یہاں کے لوگوں کی خوشحال زندگی پر بڑی دیر تک بات کرتے ۔۔

شکارپور میں روایتی تانگہ سواری اور تانگہ بانوں کی خوش گپیوں پر بڑے ہی دلچسپ تبصرے اورسیرحاصل گفتگو کیا کرتے ۔۔۔ان کے منہ سے نکلی ہر بات مصدقہ اورعالمانہ ہوتی تھی ۔۔

خلیل موریانی شکارپور شہرکے چلتی پھرتی انسائکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتے تھے ۔۔وہ جہاں پیرس دور کے شکارپور کی خوبصورتیاں بیان کرکے نہیں تھکتے تھے وہیں انہیں شکارپورشہر کے اصل شہریوں کی کراچی اوردیگر ممالک نقل مکانی پربھی بڑا افسوس رہتا تھا ۔۔

وہ کہتے تھے کہ قبائلی لوگوں کی شہرمیں دھڑا دھڑ آبادی جہاں شکارپور شہر کے موجودہ حالت کی ذمہ دار ہے ۔۔وہیں اس شہر کے اصل باسیوں کی اس سے بیوفائی کو اس سے بری الذمہ نہیں کر سکتے

خلیل موریانی صاحب کا پہلے لکھیدر پر ہی واقع ماڈرن پرنٹنگ پریس مسکن ہوا کرتی تھی ۔۔جب غلام رسول میمن جو اس وقت اپنی پرنٹنگ پریس سے قربانی اخبار سمیت رسائل اور جرائد نکالا کرتے تھے ۔۔

شکارپور میں ماڈرن پرنٹنگ پریس بھی علمی ادبی لوگوں کے ملنے کا ایک اہم مقام ہوتا تھا ۔

مرحوم غلام رسول میمن کے بعد وہ پریس ان کے شاگرد وحید قریشی نے آباد رکھا تھا لیکن پھرانہوں نے بھی اپنا الگ رائل پرنٹنگ پریس کے نام سے الگ پریس قائم کرلیا ۔۔خلیل موریانی سے وحید قریشی کے پریس پر بھی ملاقاتیں ہوتی تھیں

شہر میں ادبی کانفرنسز ہوں یا دیگر تقریبات خلیل موریانی ہر جگہ پہنچ جاتے اوراپنے ہونے کا احساس دلاتے۔۔ادبی سنگت کے ہفتہ وار کلاسز ہوں یا شعرا کے ساتھ شامیں۔۔ خلیل موریانی کسی بھی نشست میں غیر حاضر نہیں رہتے تھے۔

میں نے تو ان کو موسیقی کی محفلوں میں بے حد محظوظ ہوتے اور گلوکاروں کو داد دیتے ہوئے بھی دیکھا تھا ۔گویا وہ فنون لطیفہ کی ہر صنف سے بے انتہا محبت کرتے تھے ۔

وہ فنون لطیفہ سے محبت کرنے والا بندہ تھا ، اس لیے تو مزاجاً اتنا ماٹھا ،سنجیدہ اور ملنسار تھا ۔۔خلیل موریانی اپنے اندر ایک الگ دنیا آباد رکھے ہوئے تھے ۔۔ وہ دنیا تھی ان کے خوابوں کی ۔۔

ان کا خواب تھا کہ شکارپور پھر سے پیرس بن جائے۔۔۔یہ شہر پھر سے پڑھے لکھے لوگوں کا شہر ہوجائے ۔۔اس کی سڑکیں پھر سے گلاب کے پانی سی دھوئی جائیں ۔۔۔وہ آرائیں اچانک کہیں سے آجائیں جو شاہی باغ سے پھول توڑکر ٹوکریاں بھربھر کر شہر میں ہردروازے پر پھول پیش کیا کرتے تھے

خلیل موریانی شکارپور شہر کی ادبی محفلیں پھر سے آباد دیکھنا چاہتے تھے ، وہ اس شہر کا پھر وہی اوج دیکھنا چاہتے تھے ۔۔لیکن موت نے ان کی یہ مہلت نہیں دی ۔۔اور اچانک ہی خبر آگئی کہ خلیل موریانی اب جہاں میں نہیں رہے

ہاں خلیل موریانی اس دنیائے فانی میں نہیں رہے مگران کے خیال ان کے خواب یہیں کہیں موجود ہیں ۔۔۔وہ ہمارے ارد گرد ان خیالوں اور خوابوں کی صورت میں موجود ہیں۔۔ہمیں ان کے ان خیالوں اور خوابوں کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے ان کے اس سفر کو آگے لیکر چلنا ہوگا ۔۔ہمیں شکارپور کو پھر سے محبتوں اور ادبی سرگرمیوں کا گہوارہ بنانا ہوگا ۔۔ہمیں آنیوالی نسلوں تک خلیل موریانی کا یہ پیغام پہنچانا ہوگا

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.