کرتار پور راہداری، جنوبی ایشیا کے امن کی جانب تاریخی قدم

تحریر : کاوش میمن

پاکستان نے ایک بار پھر بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کی جانب ہاتھ بڑھا دیا، وزیراعظم پاکستان نے تاریخی اقدام کرتے ہوئے سکھوں کے مذہبی مرکز گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کا افتتاح کر دیا، بابا گرونانک کی 550 ویں سالگرہ تقریبات کے سلسلے میں سکھ برادری کی بڑی تعداد پاکستان آئی۔

عالمی سطح‌ پر پاکستان کے اس اقدام سے آشکار ہو گیا ہے کہ پاک وطن میں تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جس طرح اقلیتیوں کو برابری کے حقوق اور مذہبی آزادی دینے کی بات کی۔

آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ قائد کے فرمان پر من و عن عمل کیا جا رہا ہے، بیرون ممالک سے آنے والے سکھ یاتری پاکستان سے جاتے ہوئے نہ صرف انتہائی خوش تھے بلکہ جلد دوبارہ واپس آنے کی انتہائی خواہش ان کے لبوں پر تھی۔

دوسری طرف اگر ہم بھارت کو دیکھیں تو وہاں آج بھی مسلمانوں پر ظلم و تشدد اور سماجی استحصال کا بازار گرم ہے، بھارتی مسلمان وہاں آزادی کے ساتھ مساجد میں عبادت تک نہیں کرسکتے، گائے کا گو شت کھانے پر آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کو غیر انسانی تشدد کا نشانہ بناتے حتی کہ قتل تک کر ڈالتے ہیں۔ وہاں کتنے ہی واقعات پیش آ چکے ہیں جب ہندو انتہاپسندوں نے صرف گائے لے جانے پر مسلماںوں کو بہیمانہ انداز میں تشدد کر کے جان سے مار ڈالا۔ بھارت اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کرتا ہے جس کے نتیجے میں کشمیر، مشرقی پنجاب اور آسام سمیت کئی ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں جنم لے رہی ہیں، ریاست ناگا لینڈ کے باسیوں نے تو ایک مغربی ملک میں اپنی جلاوطن حکومت بھی قائم کر لی ہے اور اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

بھارت اپنی شناخت بطور سیکولر ملک ظاہر کرتا ہے لیکن سیکولرازم کا دعویٰ اب صرف دعویٰ ہی رہ گیا ہے، ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ بدترین صورتحال تو اپنی جگہ، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی بھا رت سرکار ظلم کے وہ پہاڑ توڑ رہی ہے کہ معلوم تاریخ انسانی میں بھی شاید اس کی مثال نہ ملے، گذشتہ 105 دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں سنگینیں تانے 10 لاکھ بھارتی فوجیوں نے کرفیو نافذ کر رکھا ہے، کشمیری عوام کو کھانے پینے کی اشیا تک خریدنے کی اجازت نہیں، تعلیمی ادارے بند، معمولات زندگی درہم برہم ہو چکے ہیں۔ ہسپتالوں میں دوائیں تک نہیں پہنچائی جا رہیں جس سے ہزاروں مریضوں کی زندگیاں داو پر لگی ہوئی ہیں۔ نہ جانے کتنے ہی مریضوں کے آپریشن منسوخ کر دیئے گئے، ان کی اذیت ناقابل بیان اور ہر دن قیامت ہے۔ پاکباز کشمیری بیٹیوں کی عصمت دری کے واقعات عام ہیں، کم سن بچوں کو پیلٹ گنز کا نشانہ بنایا جاتا ہے، کتنے ہی بچے بھارتی فوج کے ہاتھوں اندھے ہو چکے، یہیں پر بس نہیں لاتعداد نوجوانوں کے جنازے بوڑھے ماں باپ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا رہے ہیں۔ ظلم و بربریت کی یہ دردناک داستانیں سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وادی میں کوئی ایک دوسرے کی خیریت تک نہیں پوچھ سکتا، انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل، چپے چپے پر بھارتی فوجی تعینات ہیں۔

دنیا میں اگر کسی اور قوم کے ساتھ اتنا ظلم ہو تو پوری دنیا ایک پلیٹ فارم پر آجائے گی لیکن مسلمانوں کے سا تھ زیادتی پر دنیا کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان نے دنیا بھر میں مظلوم کشمیریوں کے حق میں آ واز اٹھائی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کا مطمع نظر جاندار انداز میں پیش کیا، انہوں نے دنیا کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا اور عالمی برادری کو احساس دلایا کہ کشمیر کے تنازع پر پاک بھارت کشیدگی پوری دنیا کیلئے خطرناک اور اس سے متعلق ان کی خاموشی اس سے بھی زیادہ بھیانک ثابت ہو سکتی ہے۔

اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستان نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن و آشتی کا ہاتھ ایک مرتبہ پھر بڑھایا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو اتنی ہی مذہبی آزادی ملتی ہے، اور کیا مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی کا خاتمہ ہو سکتا ہے، جنوبی ایشیا کا مستقبل خاک اور خون ہو گا یا امن کی فاختہ راج کریگی، گیند اب بھارت کے کورٹ میں ہے۔

 


You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.