ملک پرتشدد احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا

تحرير: کاوش میمن

پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر دھرنے کی انٹری تحریک انصاف نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا اور آج مولانا سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے 2018 کے انتخابات کو جعلی اور وزیراعظم کو سلیکٹڈ قرار دیتے ہوئے اسلام آباد کا رخ کیا ہے یہ بات تو واضح ہے کہ دھرنوں سے حکومتوں کو خاتمہ نہیں کیا جاسکتا جس کی سب سے بڑی مثال تحریک انصاف کا 126 دن کا دھرنا ہے طویل دھرنے سے لوگوں کو مشکالات کا سامنا کرنا پڑا ملک مفلوج ہوگیا تعلیمی ادارے بند ہونے سے طلبہ کی تعلیم کا ضیاع ہوا کنٹینر پر کھڑے ہوکر منتخب وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا پارلیمنٹ ہر لعنت بھیجی گئی  سول نافرمانی کی تحریک چلائی گئی غلیض زبان کا استعمال کیا گیا مغلظات بکی گئی پورے ملک کا لاک ڈائون کیا گیا غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے گئے وزیراعظم ہائوس کے گھیرائو کی دھمکیاں دی گئیں لیکن ان سب کے باوجود تحریک انصاف کے ہاتھ کچھ نہ آیا لیکن اس سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ پاکستان منسوخ ہوا اور پھر بالاآخر 126 دن بعد عمران خان نے دھرنا ختم کردیا آج ایک بار پھر دھرنا سیاست شروع ہوچکی ہے مولانا فضل الرحمان نے اپنے ڈنڈا بردار کارکنان کے ہمارا اسلام آباد کا رخ کیا ہے اور عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں اس طرح ایک جتھے کو لاکر بلاجواز  وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنا نہ ماضی میں درست تھا نہ اب درست ہے  وزیراعظم کا انتخاب عوام کرتے ہیں اور عوام کا ہی یہ حق ہے کہ وہ جائزہ لیں کہ حکومت کی کارکردگی کیسی جارہی ہے اور عوام کو کتنی سہولیات مل رہی ہیں جیسا کہ حال ہی میں لبنان میں ہوا کہ واٹس ایپ پر حکومت نے ٹیکس عائد کیا تو پورے ملک کہ عوام سڑکوں پر نکالا آئے اور پھر وزیراعظم کو استعفی دینا پڑا یہ ایک  احتجاج کا طریقہ کار ہوتا ہے  لیکن ڈنڈا بردار افراد کو لاکر ملک میں افراتفری پھیلا کر بلاجواز وزیراعظم کا استعفیٰ طلب کرنا درست نہیں ہے اس طرح کے حالات پیدا نہیں کیے جانے چاہیے جس سے کوئی تیسری قوت فائدہ اٹھائے اور ملک کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑے ماضی میں بھی اسی طرح کے احتجاج کیے گئے جس سے ملک اور معیشت کو نقصان ہوا آج ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے پاکستان ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر دنیا بھر میں آواز اٹھا رہا ہے دوسری طرف امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے اس صورتحال میں پر تشدد مظاہروں سے ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب ہوسکتی ہے جس کا بھارت یا افغانستان فائدہ اٹھا سکتے ہیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج کرنا سب کا حق ہے لکین ڈنڈا بردار افراد کو لاکر ملک جام کردینا کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتا خان صاحب نے اقتدار میں آنے سے پہلے یقیناً بڑے بڑے دعوے کیے تھے پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا کہا لیکن پھر معیشت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچانے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس بھی جانا پڑا اور بھی اس طرح کے بہت سے دعوے اور وعدے کیے گئے جو ابھی تک تو پورے ہوتے دیکھائی نہیں دے رہے ہیں. بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہر طبقہ پریشان ہیں نوجوان نوکریاں نہ ملنے کا رونہ رو رہے ہیں ڈاکٹرز اور ٹیچرز احتجاج کررہے ہیں لیکن ان سب کے باوجود خان صاحب کہتے ہیں گھبرانہ نہیں ہے  یقیناً مہنگائی اور دیگر کئی مسائل ہیں عوام حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کریں اپنی سفارشات دیں اپوزیشن عوام کی آواز بن کر پارلیمنٹ میں آواز اُٹھائے اپوزیشن عوام کے مسائل کو وزیراعظم کے سامنے رکھے اور بات چیت کے ذریعے معملات کو طے کریں دھرنوں سے نہ پہلے حکومتوں کا خاتمہ ہوا نہ اب ہوگا بہر حال اس سے ملک کو ضرور نقصان پہنچے گا

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.