جديد دور اور فيمنزم

جس طرح سے یہ دور جدید سے جدید تر ہوتا چلا جا رہا ہے یہاں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہو یا خواتین کے حقوق کی پاسداری کے لیے ہر طرح سے مہم چلتی آ رہی ہے خواتین کا ایک طبقہ جوکہ Feminism کے نام پر اُن حقوق کا مطالبہ کرتا جوکہ اگر اسکی حمایت کر بھی دی جائے تو عورتوں کے لیے ہی باعثِ تکلیف ہے اسلام جب رائج ہوا پاکستان علٰیحدہ ریاست بنا تو یہاں ایک بات صاف اور واضح تھی اور ہے،پاکستان کی بنیاد اسلام پر رکھی گئ جس کا مقصد مسلمانوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے حقوق کا تحفظ اور اپنے اپنے مذاہب میں رہتے ہوئے اپنے تہواروں کو آزادی سے منانا شامل ہے اور ایک بات میں واضح کرتی چلوں حقوق کی برابری،مرد اور عورت جوکہ کبھی بھی کسی بھی حوالے سے برابر نہیں ہو سکتے.نہ جسمانی لحاظ سے نہ قوت اور صلاحیت کے لحاظ سے کیونکہ مرد کو محافظ بنا کر بھیجا گیا ہے اور اللہ تعالٰی نے مرد کی جسمانی قوت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُس پر جو ذمیداریاں عائد کیں ہیں اُن پر عورت چاہ کر بھی کھڑی نہیں اتر سکتی اور عورت کی نزاکت و لطافت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ذمیداری عائد کی اور اس میں اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دیا لیکن بعض اوقات اس پردے کو کچھ عورتیں اپنا تحفظ نہیں بلکہ قید سمجھتی.

اور ابھی حال ہی میں ایک واقعہ جوکہ سب ہی کے علم میں ہوگا سعودی عرب میں دو خواتین کا برقع اُتارنا مقصد صرف اتنا تھا کہ اُن کو ڈر ہے یہ پردہ انہیں کسی مشکل یا اس سے کسی مذہبی انتہا پسندوں کے ضد میں نہ آجاہیں جس سے اُنہیں خطرہ محسوس ہوتا،انکا کوئ خاص مقصد نہیں بس اپنی زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق اور پابندیوں کے بغیر گزارنا چاہتی ہیں اور اُنہیں کسی خاص لباس کو پہننے پر مجبور نہ کریں اور شہزادہ محمد بن سلمان بھی کہہ چکے ہیں کہ اسلام میں برقع لازم نہیں. اور اگر مذہبی انتہا پسندوں کو حملہ کرنا ہی ہوتا تو عرب میں برقع کا رواج شروع سے ہی چلتا آ رہا ہے یہ نظام ابھی کا نافذ کردہ نہیں اور وہاں کی تمام خواتین اُنکی مخالفت میں ہیں اور اس حمایت میں ہیں کہ عبایا مکمل تحفظ فراہم کرتا شاید صرف اُنکو ہی برقع سے اپنی زندگی کا خطرہ محسوس ہوتا یہاں کسی کو یہ بات تو نہیں سمجھائ جا سکتی کہ کون صحیح ہے اور کون غلط کیونکہ ” دین میں کوئ جبر نہیں ہدایت گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے ” مگر پھر بھی یاد دہانی کے لیے یہ بات بتاتی چلوں شاید یہ جس کو پابندی سمجھ رہیں یا مجبوری سے اسکا پہننا اُنکو چُب رہا یہ شاید بھول گئیں اسلام سے قبل عرب میں ہی بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور وہ وہ مظالم و ستم رسیدہ طبقہ تھا عورت کا جس کو اسلام نے آکر ہی ہمیں عزت کا مقام بخشا اور اسلام کے ہی حکم کو جوکہ ہمارے ہی تحفظ کا باعث ہے اور اسکی پامالی سے صرف اور صرف ذلت اور رُسوائ ہے اسے پابندی سمجھ کر اسلام کے خلاف جانا کہاں کی عقلمندی ہے؟

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.