لاہور راوی کنارے خانہ بدوش بستی کی داستاں

اسد ممتاز رڈ

اس دن  صبح سویرے فضل بھٹی صاحب دارل مسرت انسٹویٹ پہنچھے تاکہ وہ ہمیں راوی کنارے پر قائم خانہ بدوش بستی لے چلیں۔

نیشنل کالیج آف آرٹ اور داتا دربار سے ہوتے ہوئے تقریبن آڈھے گھنٹے کی سواری کے بعد ہم راوی کنارے پہنچے۔ تخت لاہور کے سائے تلے یہ ایک چھوٹی سی کائنات گزشتہ بائیس برسوں سے آباد ہے۔

حکومت نے کئی بار ان خانہ بدوشوں کو یہاں سے اُٹھانے کوشش بھی کی، لیکن بے بسوں کی مزاحمت سے پولیس اور ریاستی اداروں کو پیچھے ہونا پڑا۔\

اس خانہ بدوش بستی میں اس وقت  ایک ہزار جھوپڑیاں ہیں جبکہ 2002 میں ان جھوپڑیوں کی تعداد ایک سو سے بھی کم تھی۔

یہاں مختلف ذات، برادرری اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے خانہ بدوش آباد ہیں۔

ہم نے  فضل بھٹی جو لاہور کے سماجی کارکن ہیں ان سے معلوم کیا کہ  بائیس سال سے اگر یہ لوگ یہاں موجود ہیں تو پھر یہ خانہ بدوش تو نہ ہوئے! یہ تو جھوپڑی میں رہنے والے مزدور اور محنت کش افراد ہیں۔ بہرحال فضل بھٹی صاحب اس بات قائم ہیں کہ یہ خانہ بدوش ہی ہیں ۔

پنجاب کی خوشالی امیروں کے لیے ہے جھوپڑی میں تو آئے روز اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

بستی  کے اوپر سے بجلی کی تاڑیں تو گزر رہی تھی، لیکن بستی بجلی سے محروم رات کو سیاہ اندھیرہ اور دن کو تپتا سورج۔

راوی کے کنارے پر آباد لیکن صاف پانی سے محروم ، پنجاب میں تو تعلیمی ایمرجنسی ہے امیروں کے بچے شاہکار اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔

حکمرانوں نے دشمنوں کے بچوں کو پڑھانے کا احد کیا تھا، لیکن بستی کے بچے شاید دشمنوں کے بچوں سے بھی بدتر ہیں، کیوں کہ ان پاس نہ کوئی استاد ہے اور نہ کوئی  اسکول اور صحت سمیت  دیگر بنیادی  سہولیات میسر  نہیں  ہیں۔

ہاں ایک چھوٹی سی جھوپر پٹی میں ایک سماجی تنظیم نے اسکول قائم کیا ہے جو بھی نہ ہونے کے برابر تھا ۔

ہماری  کچھ افراد سے بات چیت بھی ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ پنجاب کے مختلف علاقوں سے یہاں آئے ہیں، کئی برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں، ان میں سے کئی خاندان کے خاندان آباد ہیں، ان کی شادیاں بھی اسی بستی میں ہوتی ہیں۔ یہ لوگ شادیوں میں جہیز کے بدلے دلہن کو رقم دیتے ہیں۔

خانہ بدوش روایات میں اکثر شادیاں کم عمری میں ہی وٹہ سٹہ کی بنیاد پر ہوجاتی ہیں۔

بستی میں بچوں کی تعداد بہت زیادہ نظر آئی، یہ بچے دن کو بستی میں کھیل کود کرتے ہیں اور رات کو شہر کے ہوٹلوں، شاہراہوں  اور شاپنگ سینٹرز  کے باہر بھیگ مانگتے ہیں، جو کہ شہروں میں بڑھتا ہوا کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

معلوم کرنے سے چلا کہ اکثر مرد کام نہیں کرتے وہ اپنے بچوں سے کام کرواتے ہیں اور پھر انہی پیسوں سے زندگی کا گزر ہوتا ہے، اس لیے یہ لوگ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے اس میں کوئی آر محسوس نہیں کرتے اور جتنے زیادہ بچے ہوں گے۔ اتنے زیادہ پیسے آئیں گے۔

ہم نے معلوم کیا کہ حکومت کو آپ کے لیے کیا کرنا چاہیے تو جواب میں کہا گیا حکومت ہم مکان بنا کر دے کوئی امداد کردے۔

نوکری کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ ہم نوکری نہیں کرتے بس ہماری مالی  مدد کی جائے۔

ہم بھی جس وقت بستی میں داخل ہوئے تھے تو سوال یہ کیا گیا تھا کہ ہمارے لیے کوئی امداد لائیں ہیں؟

اکثر خواتین بھی بچوں کی طرح بھیک مانگ کر گزارہ کرتی ہیں ۔ خواتین کا اپنی صحت کے حوالے سے کہنا تھا کہ سب اللہ کی مرضی ہے۔ ہماری زندگی میں جو کچھ ہوگا وہ ہمیں ملے گا، باقی ہر کسی کی اپنی اپنی قسمت ہے۔

وہاں چھوٹی بچیاں بھی ماںوں کی صورت نظر آئی۔ ان کے پاس نہ تو کوئی سوشل ویلفیئر شعبے کے لوگ جاتے ہیں اور نہ ہی خاندادنی منصوبہ بندی والوں نے یہ زحمت کی ہے کہ انہیں بھی چھوٹے خاندان اور ماں کی صحت کے حوالے سے کچھ سمجھایا جائے۔

راوی کے کنارے ہونے کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے ایک تین سالہ بچی راوی میں گر کر فوت ہوگئی تھی ۔

اس بستی میں دو خواتینHIV  کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ان کا علاج کیسے ہوگا اور بستی میں دیگر لوگوں کو اس مرض سے کسے بچایا جائے یہ بے سہارا لوگ ایک مسیحا کہ منتظر ہیں جو ان کے درد کو محسوس کرے اور ان مریضوں کے ساتھ آنے والے نسلوں تعلیم اور صحت مند زندگی کی ضروریات پوری  کر کے کہ ان کی زندگیاں محفوظ بنائے  ۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.