یہ ہیرا منڈی ہے یا موچی بازار!

اسد ممتاز رڈ

گزشتہ ہفتے انسانی حقوق کےسینٹر فار ہیومن رائیٹس ایجوکیشن کی  ٹریننگ کے سلسلے میں  میرا لاہور جانا ہوا۔

ٹریننگ کے دوران ہمیں سماج کے  پسمانده، بےآواز طبقوں کی لاچاری اور بے بسی جاننے  کے لے  کہا گیا تو میں اور میرے ساتھی لاہور کے  خانہ بدوشوں کی بستی  اور لاہور کی ہیرا منڈی میں بسنے والےجسم فروشو خواجہ سرا کے پاس حقائق جاننے پہنچ گئے۔

اس دوران میرے ساتھ لاہور کے سماجی ورکر فضل بھٹی ، جعفرآباد کے محسن رند، سرگوھا کے محس علی ، شیخوپورہ کےفہد اور اسلام آباد کی جیا جگی شامل تھی۔

ہم نے تقریباً چار گھنٹے ہیرا منڈی میں گزارے اور پانچافراد سے ملاقاتیں کیں۔ ان پانچ افراد میںتیس سالہ خواجہ سرا مدھوبالا، پچاس سالہ گرو نعیم اور دو جسم فروشخواتین شامل تھیں۔

لیکن ہماری تفصیلی بات چیتہیرا منڈی میں بے آوازوں کی آواز اور بے سہاروں کا سہارا بننے والی خواجہ سرا عاشی بٹ سے ہوئی۔

عاشی بٹ کی عمر اس وقت پچاس سال  کے قریب ہے، معصوم دل، روشن چہرے والی ہزاروں غم سینے میں لینے کے باوجود عاشی بٹ کی  مسکراہٹ ایک روشن امید تھی۔

بات چیت کے دوران عاشی بٹ نے بتایا کے وہ لاہور کے اپر کلاس سے تعلق رکھتی ہے، پہلے اس کا والد اور اب اس کا بھائی لاہور کے اشرافیہ میں شمار ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے عاشی کو اس حال میں قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

عاشی نے پچپن میں اچھے اسکول سے تعلیم حاصلکرنےکےبعد بھائی کے رویئے کی وجہ سے گھر چھوڑ دیا اور اب میں وہ ہیرا منڈی میں دو چھوٹے سے کمروں والے مکان میں رہائشپذیر ہے۔

عاشی بٹ نے لاہور میں اپنی الگ پہچان قائمکر رکھی ہے، وہ کافی عرصے تک ایک ٹی وی چینل پر مارننگ شو کرتی رہیں۔

عاشی بٹ کی اپنی فلاحی تنظیم بھی ہے، جو خواجہ سراؤں کے مسائل پر کام کرتی ہے۔

عاشی نے پیشے سےریٹائر ہونے والے خواجہ سراؤں کے لیئے ایک گھر بنوایا، جہاں بزرگ خواجہ سراؤں کو مفت رہائش اور کھانا ملتا ہے۔

2009 میں خواجہ سراؤںکے لیئے شناختی کارڈ کے حصول کے لیئے چلنے والیتحریک میں بھی عاشی بٹ کا کردار نمایاں تھا۔ بقولعاشی کے 2013 میں مسلم لیگ (ن)نے جنرل الیکشنکے لیئےپارٹی ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔

عاشی نے بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہٹکٹ ملنے کے دوسرے دن انکے گھر پر نامعلوم افراد نے حملہکیا اور فائرنگ کی تھی، جس کے بعد انہوںنے الیکشن لڑنے سے انکار کردیا تھا، وہ سمجھتی ہیں کہ حملہ انہیں الیکشن سے روکنے کے لیئے اپنوں اور غیروں کی سازش تھی۔

عاشی بٹ کا خیال ہے کہ خدا نے خواجہ سراؤں کو مردوں اور عورتوں سے جدا اس لیے تخليق کیا کیوں کہ وہ پاک ہوتے ہیں، اسی وجہ سے خانہ کعبہ کی چابیاں خواجہ سرا سنبھالتے تھے۔

ریاست ماں جیسی ہوتی ہےمگر صرف مردوں اور عورتوں کے لیے، خواجہ سرا کے لے تو ریاست سوتیلی ماں جیسی بھی نہیں ہے۔

پاکستان میں اس وقت 22 لاکھ خواجہ سرا ہیں، تمام خواجہ سرا لاوارثوں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ سماج کی بے بسی، نظر انداز کرنا اور سب سے بڑھ کر پرتشدد واقعات کی وجہ سے خواجہ سرا چلتی پھرتی لاشیں بن چکے ہیں۔

عاشی بٹ نے ایک اسپتال میں لاوارث خواجہ سرا کی لاش کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار انہیں کو ایک لاوارث خواجہ سرا کا پتا چلا تو پہلے تو اسپتال انتظامیہ نے لاش دینے سے انکار کردیا تھا، بعد ازاں پولیس اور اسپتال عملے نے پیسوں کے عیوض لاش دفنانے کے لیئے ہمارے حوالےکی۔

عاشی بٹ نے بتایا کے ایک بار اس نے ماڈل ٹاؤن کےعلاقے میں دو نوجوان خواجہ سراؤں  کو بھیک  مانگتے دیکھا تو ان سے سوال کیا کہ آپ لوگ تو پڑھے لکھے لگتے ہو، بھیک کیوں مانگ رہے ہو، بھیک مانگنا چھوڑ دو؛ تو وہاں سے جواب آیا کہبھیک تو پوری دنیا سے ہمارے حکمران مانگ رہے ہیں، بھیک پر ہی تو ملک چل رہا ہے، اگر بھیک بند کروانا چاہتی ہو تہ سب سے پہلے حکمرانوں سے کہو کہ وہ بھیک مانگنا چوڑ دیں۔

عاشی بٹ مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہے اسے پارٹی کے اجلاسوں میں بھی ناپسندیدہ رویوں کا سامنا کرنہ پڑتا ہے۔

عاشی بٹ خواجہ سرا کے مسائل پر کام کرنے والی تمام این جی اوز سے بھی ناخوش ہے، وہ سمجھتی ہے  کہ این جی اوز فقط ذاتی مفاد کو ترجیحات دیتی ہیں، ان کا خواجہ سراؤں کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔

تقریبن دو ہزار خواجہ سرا اس وقت بھی ہیرا منڈی میں رہائش پذیز ہیں۔ ان کی صحت، تعلیم ، خوراک پر کوئی کام نہیں ہو رہا۔

ان میں کئی خواجہ سرا HIV کے مرض میں مبتلا ہیں، اس سے بھی بڑا مرض سماج نے ان کو نظرانداز کرنے سے دیا ہے۔

اگر معاشرہ انہیںقبول کر لے تو خواجہ سرا نہ بھیک مانگیں گے اور نہ کسی بے ہودہ کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔

پیٹ کی بھوک اور حیوانوں کے  معاشرے نے انہیں اس کام پر مجبور کیا ہے۔

یہ خواجہ سرا بہت اچھے میک اپ آرٹسٹ ہیں، اپنے بیوٹی پارلر چلا سکتے ہیں، باورچی بہت اچھے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ وہ تمام کام کرسکتے ہیں، جو مرد اور خواتینکرتی ہیں ۔

ہیرا منڈی کی اب ماضی والی رونقیں  نہیںرہیں۔ایک وقت تھا جبہیرا منڈی کی شام کو لگنےوالی محفلوں کی گونج لاہور سمیت پوری دنیا میں مشہور تھی۔

نواب، سیاستدان ، بیوروکریٹ ، وزیر سب ان محفلوں کی رونق ہوا کرتے تھے۔

1996 کے الیکشن میں شہباز شریف کو ہیرا منڈی سے الیکشنکے لیئے چندا بھی ملا تھا۔

عاشی بٹ نے انکشاف کیاکہ ماضی کی بڑی اداکاروں کا تعلق بھی یہاں سے تھا، جس میں ریما ، بابرا شریف ،میڈم نورجہاں ، فردوس اور دیگر شامل ہیں۔

خواجہ سرا مدھو بھالا اور اس کے گرو نے بتایا کہ انہوں نےپوری زندگی جو کمایا وہ سب اپنے بھائی اور بہنوں کو دیا، جو انہیں اب قبول کرنے سے بھی انکار کر رہے ہیں۔

یہ دونوں خواجہ سراHIV  کے مرض میں مبتلا ہیں، حکومت سمیت کوئی بھی ادارہ انہیں پوچھ تک نہیں رہا ہے۔

گرو نعیم نے انٹریو کے دوران بتایا کہ منڈی میں کچھ نہیں رکھا، دل تو چاہتا ہے کہ یہاں سے چلے جائیں، لیکن میں نے دو کتے اور بلیاں پالی ہوئی ہیں، جن کا سہارا ہم بے سہارا ہیں، اگر ہم چلے گئے تو پھر یہ جانور کہا جائیں گے؟ اب یہاں رہنے کا واحد سبب یہ جانور ہیں۔

جس طرح حکومت یتیموں اور لاسہارا افراد کے لے شیلٹر ہوم بنا رہی ہے، اس طرح ان خواجہ سراہ کے لے بھی ادارے بنائے جائیں، جہاں وہ عزت سے اپنی زندگی گزار سکیں اور ان کی معاشی مدد کے لے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا کوئی خاصوصی پروگرام شروع کرنا چاہیے تاکہ ان کا گزر بسر ہو سکے ۔

یہاں کام کرنے والی اکثر خواتیں شہر کے پوش علاقوں میں شفٹ ہو گئیں ہیں، اب وہیں محفلین سجھتی ہیں۔

پہلے صرف ہیرا منڈی ریڈ ایریا میں شمار ہوتا تھا، اب  پورا شہر ریڈ ہوگیا ہے۔

ہیرا منڈیمیں اب موچیوں کی دکانیں کھول چکی ہیں، ماضی میں اس جگہ میوزک کی دکانے ہوا کرتی تھیں۔

ہیرا منڈی کے مین بازار میں لاہور پرانا تھیٹر ہاؤس بھی اب ویرانی کا شکار ہوچکا ہے۔

شام کی محفلوں کو چار چاند لگانے والے اکثر میوزیشن اب خستہ حالی کا شکار ہوچکے ہیں۔

میوزک کی دکانوں کی جگہ اب جوتوں کی دکانیں کھل چکی ہیں۔ ماضی کیہیرا منڈی اب موچی بازار بنچکا ہے۔ خانہ بدوش کی داستان کا ذکراگلی قسط میں بیان ہوگا۔

You might also like

Leave A Reply

Your email address will not be published.