وفات کے دن قائد اعظم کے ساتھ کیا ہوا؟

عوامي آواز رپورٽ
آج قائد اعظم کا اکہترواں یوم وفات ہے۔ جو سرکاری اعزار کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔
عوامي آواز رپورٽ آج قائد اعظم کا اکہترواں یوم وفات ہے۔ جو سرکاری اعزار کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

آج قائد اعظم کا اکہترواں یوم وفات ہے۔ جو سرکاری اعزار کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

لیکن اکہتر سال قبل، آج ہی کے دن، قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ کیا ہوا، آئیے مختصر طور پر حقائق پر نظر ڈالتے ہیں جو اکثر چھپائے جاتے ہیں۔

قائد اعظم کو ٹی بی کا مرض لاحق ہوگیا تھا لیکن تحریک پاکستان میں مصروف ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے اعلاج پر زیادہ توجہ نہیں دی اور قیام پاکستان کے بعد بھی اس کی بنیادیں رکھنے میں دن رات مصروف رہے۔ ان کی انتہائی خراب صحت کی خبر تب ہوئی جب مئی 1948 ء کو انہیں کاکول میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کا افتتاح کرنا تھا لیکن انتہائی کمزوری کی وجہ سے طویل سفر کرنے کے لائق نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کا دورہ ملتوی کردیا گیا۔

 ڈاکٹر لفٹننٹ کرنل الاہی بخش نے قائد اعظم کے آخری دنوں کے بارے میں اپنی کتاب میں اہم انکشافات کئے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو ٹی بی تھی، جس کیلئے آکسیجن والے پرفضاء مقام پر ان کے قیام کا بندوبست کرکے اعلاج کرنا تھا لیکن بلوچستان میں آٹھ ہزار تین سو چھتیس فٹ بلندی پر واقع زیارت کے مقام پر ان کی رہائش کا بندو بست کا فیصلہ کیا گیا۔ اتنی بلندی پر آکسیجن ویسے ہی کم ہو جاتی ہے، وہاں رہائش کا فیصلہ کس نے کیا؟ یہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اتنی بلندی پر طویل عرصے تک رکھنے وجہ سے ان کا مرض مزید بگڑ گیا۔

قائد اعظم دو ماہ دس دن زیارت میں رہے اور وہاں گذارے دنوں کیلئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کیلئے قید کا پنجرہ تھا۔

گیارہ ستمبر کے دن کراچی میں ایسی ہی گرمی اور حبس کے دن تھے جیسے آج کل ہیں۔ قائد اعظم گورنرجنرل اینڈ چیف اگزیکٹو آف پاکستان کا جہاز ماڑیپور ایئرپورٹ پر اترتا ہے۔ کراچی ان دنوں پاکستان کا دارلحکومت تھا۔ تمام بڑی شخصیات یہاں رہتی تھیں، ماڑیپور ایئرپورٹ کوئی نہیں پہنچا۔ لیکن قائد اعظم کو لینے کیلئے ایک ایمبولینس بھیجی گئی تھی۔ جس میں قائد اعظم کو لیٹایا گیا۔ ان کے ساتھ فاطمہ جناح اور ایک نرس تھیں۔

کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد ایمبولینس کا ایندھن ختم ہوگیا۔ ان کے ساتھ کوئی مددگار گاڑی بھی نہیں تھی۔ اس گرمی اور حبس میں پاکستان کو معروض وجود میں لانے والا، ملک کا چیف ایگزیکٹو بے یارو مددگار بیچ سڑک ،اسٹیچر پر لیٹا رہا۔ نقاہت اور شدید کمزری کی وجہ سے ان میں ہاتھ اٹھانے کی ہمت بھی نہیں تھی۔ فاطمہ جناح اپنے پلو سے ان کے چہرے پر بھنبھناتی مکھیاں ہٹاتی رہی۔

کافی دیر کے بعد ان کیلئے مدد آئی اور قائداعظم محمد علی جناح کو گھرپہنچایا گیا جہاں وہ گیارہ ستمبر رات دس بجکر دس منٹ پر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔

پاکستان بنانے والے کے ساتھ ایسا کیوں، کیسے ہوا، کس نے کیا؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب ابھی تک کوئی دینے کو تیار نہیں۔

You might also like